Chandi Ghar put up at Thatta

 

جس وقت گستاخانہ کارٹون کی دلآزار خبریں امت مسلمہ کو بڑی طرح سے جھنجھوڑ رہی تھیں،لگ بھگ انہیں دنوں میں،عید قربان سے دو تین دن پہلے، ضلع ٹھٹہ کے ایک گاؤں میں ایک معجزہ نما ایجاد منظر عام پر دکھائی دی۔سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنام فقیر محمد راجھیرو میں گویا ایک “خوشحالی بم ” چاندی ٹیکنالوجی کے نام سے پھٹا جس سے روزگار کا ناختم ہونے والا آغاز ہوا۔نیز شنید ہے کہ اب مٹی کے گھروں کے بجائے ،دیہاتیوں کو چاندی کے گھروں میں رہنے کو ملے گا۔گوٹھ فقیر محمد راجھیرو کے باسیوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھیں کے مردوں کے ہاتھوں سے بلاک اور پینل کو آگے پیچھے کرنے سے انکی تمام ضروریات چند منٹوں اور گھنٹوں میں پوری ہو گئیں؛ جیسا کہ گشتی بیتل خلاء،پانی کا حوض،عالی شان کمرہ ،بسترہ،سوفا،میز وغیرہ۔

لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ تمام اشیاء ( کمرہ حوض وغیرہ )کو باآسانی تور تار کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا۔مزید برآں ،ایک بنا ہوا کمراہ چار اضافی کمرے کا اندیا دے رہا تھا۔یہاں پر یاد رکھا جائے کہ چاندی ٹیکنالوجی شہر کراچی کی منفرد ایجاد ہے۔جس پر گزشتہ 24 سالوں سے تجربات کئے جا رہے ہیں۔اور جس پر کراچی کے مخیر حضرات کے قرور ھا روپے خرچ ہو چکے ہیں۔بقول ایک معروف امریکی صحافی کے چاندی ٹیکنالوجی ایک high tech innovation ہے ۔
پچھلے دنوں جو کام ٹھٹہ میں ہوا ہے وہ دراصل اس ایجاد کے مکمل ہونے کی صورت میں تھا۔

کیا پاکستان میں معاشی انقلاب دستک دے رہا ہے؟