کرا چی کا شمار اس کرہ ارض کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ اس لیے ٰیہ ہو ہی نھیں سکتا کہ یھا پر ہو نے والی کوئی بھی تخلیق بین الاقوامی شھرت حاصل ٰنہ کر پائے۔ یہی وجہ ہےکہ ’چاندی ٹیکنالوجی‘ کی بازگشت ملکوں ملکوں ( امریکہ، جنوبی کوریا، ہندستان، برطانیہ سمیت اقوام متحدہ کے مختلف اداروں) میں سنائی دے رہی ہے۔

دلچسپ بات تو یہ ہےکہ اس لا زوال ایجاد کے تخلیق کار یعنی گل بہاؤ ٹرسٹ (جوکہ ایک ماحولیاتی این جی او) ہےکے وہم گمان میں بھی نہ تھا ان کی ’کچرا دو سونالو’ مہم بڑھتے بڑھتے ایک ایجادکی موجب بن جائےگی جو تحکیق و تخلیق کی دنیا میں تحلکہ مچا دے گی۔ کراچی والے بخوبی جانتے ہیں کہ چند سال پہلے مختلف قسم کا ضائع شدا خام مال جسے عام طور پر لوگ کچرا سمجھ کر پھیکتے تھے ‘ گل بہاو‘ کی جانب سے خالص سونے اور پیسے کے اوز لیا جاتا تھا۔

اس پوری محم میں ہزاروں افراد نے حصہ لیا جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی جو فیکٹریوں، دوکانوں، تعلیمی اداروں وغیرا سے یے خام مال جمہ کرکے بزریعہ ٹرک اور سوزوکی گل بہاؤ کے تحکیکاتی مرکز پہنچاتے تھے۔ اس خام مال پر دنوں نھیں بلکہ دودہایوں تک یعنی ۱۹۹۵؁ سے لے کر اج تک تجربات ہو رہے ہیں۔

ان تجربات کا مقصد ضرورت کی چیزوں کا حصول ہے جن میں کمرا، بیت الخلا، بسترا، پانے جمع کرنے کا حوض، میز، کرسی، صوفہ وغیرا شامل ہیں۔ ان چیزوں میں صرف استعمال کی سہولت ہی نھیں بلکہ پائداری، خوبصورتی اور ارزان قیمت جیسی خوبیاں بھی شامل ہیں۔ ۱۹۹۵؁ سے لے کر اج تک نوجوانوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا، یہ ہنرمند نوجوان خوا وہ تعلیم یافتہ ہوں یا ان پڑھ اس ادارے کے لیے ایک فوجی دستے سے کم نھیں ہیں۔

یوں تو تحقیق اور تجربے کا شعبہ دنیا کا محنگا ترین شعبہ ہے کیوں کہ اس میں جب تک تیر اپنے نشانے پر نھیں لگتا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ وقت اور پیسے کے ضیعا کے سوا کچھ نھیں۔ یہی وجہ ہے کے اب تک لاکھوں نہیں بلکہ کڑوڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اتنا سارا پیسا کہاں سے ایا ؟

اللہ کی معارفت اور تاید کے بغیر اتنا بڑا کام ٓانجام دیا ہی نھیں جا سکتا۔ بظاہر اس کام میں کراچی کے لوگوں کا بے تحا شا پیسہ شامل ہے۔ ان میں بیوپاری بھی ہیں تو اسکول، کالج اور یونیور سٹیوں کے اساتزہ بھی مختلف پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں انجینئر، ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ اس کارے خیر میں خواتین بھی بھر پور حٖصہ لیتی رہی ہیں۔

یہ تمام افراد بطور زکوۃ پیسے دیتے رہے ہیں۔ اس کار خیر میں سردار یاسیں ملک، سید اللہ والا، زاہد ادمجی اور عنبریں بشیر نے گل بہاو کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے۔ اس مہم کو کمشنر کراچی شعیب صدیقی کی سرپرستی بھی حاصل ہوئ ہے۔ گل بہاؤ کے ریسرچ سینٹر میں اب تک بہت ساری عقل کو حیران کر دینے والی ایجادات تخلیق ہو چکی ہیں لیکں ان میں سب سے نمایاں ‘چاندی ٹیکنا لوجی‘ ہے جو کہ دو قسم کے بلاک اور پینل کو ملا کر بنائ جاتی ہے۔

چاندی ٹیکنا لوجی سے مندرجہ زیل اشیاء بااسانی بنائ جاسکتی ہیں۔ مثلا دومنزلہ مکان اور بعد میں اسی مکان کو باآسانی توڑ کر میز، صوفہ، کرسی، بستر اور پانی کا حوض بھی بنایا جاسکتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جس طرح موبائل فون نے دنیا بدل دی ہے عین اسی طرح اللہ نے چاہا تو کراچی کے اس تحفہ سے دنیا ایک نئ کروٹ لےگی۔

کراچی کا تحفہ دنیا کے لیے !
Tagged on:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *